موصولہ رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی پاراچنار کے طوری اور بنگش سمیت شیعہ قبائل ـ بشمول چھ چھوٹے قبائل ـ کے رہنماؤں نے ک بڑا لویہ جرگہ منعقد ہو ا جس میں 500سے زائد شیعہ قبائل رہنماؤں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیاکہ کرم ایجنسی پاراچنار کے شیعہ کسی بھی صورت میں دہشت گرد طالبان سے کوئی بھی معاہدہ یا تعاون نہیں کریں گے۔کرم ایجنسی پاراچنار میں شیعہ قبائل کا لویہ جرگہ کرم ایجنسی ہیڈ کوارٹر میں منعقدہو اجہاں شہعہ رہنماؤںنے واضح طور پر اپنی تقاریر میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طالبان دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں اس لئے طالبان دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون یا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔شیعہ رہنماؤںکا کہنا تھا کہ طالبان دہشت گرد گروپس ملک دشمن طاقتوں امریکا ،اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں ،اور ملک پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرن اچاہتے ہیں تاہم ملت جعفریہ اور خصوصا ً پاراچنار کرم ایجنسی کے شیعہ عوام کسی بھی صورت میں ان طالبان دہشت گردوںکو اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ان کاکہنا تھا کہ طالبان دہشت گردوں نے گذشتہ چار سال سے پاراچنار کرم ایجنسی کی سڑکوں کی بندش کر رکھی ہے جس کے سبب پاراچنار کے شیعہ مسلمان ہی نہیں بلکہ سنی مسلمان بھی سخت اذیت کا شکار ہیں تاہم حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان ملک و قوم دشمن طالبان دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے اور پاراچنارکی سات لاکھ سے زائد مظلوم عوام کو طالبان دہشتگردوں کے مظالم سے نجات دلوائی جائے۔شیعہ قبائل کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ فوری طور پر پاراچنار تا پشاور جانے والی سڑک سے طالبان دہشت گردوں کا ناجائز قبضہ ختم کراوایا جائے بصورت دیگر کرم ایجنسی پاراچنار کے شیعہ عوام اپنے دفاع کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گے،۔شیعہ رہنماؤںنے کہاکہ ماضی میں بھی طالبان سے کئے گئے معاہدوںکا کوئی نتیجہ برآمد نہیںہو ا بلکہ اس کے بعد صرف2007ء میں ہی 1200سے زائد شیعہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا گیا جبکہ5000سے زائد ذخمی ہوئے اور 200کے قریب شیعہ افراد کو اغوا کیا گیا،ان کاکہنا تھا کہ اب وقت آ گیاہے کہ حکومت اور پاراچنار کے عوام مل کر ان ملک دشمن و قوم دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے اور پاراچنار کرم ایجنسی کا محاصرہ ختم کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
پاراچنار سے موصولہ تبصرہ:
سلام یہ معاہدہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔ متعصب حکومت چاہتی ہے کہ پاراچنار کی شیعہ آبادی نے 4 سالوں میں طالبان کو مسلسل شکست سے دوچار کیا ہے اب ایک اور سازش کے ذریعے پہلے شیعیان پاراچنار کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتی ہے پھر جب طالبان کرم ایجنسی میں وارد ہوجائیں تو یہاں کی ناصبی کمیونٹی کے ساتھ مل کر شیعیان اہل بیت (ع) پر ایک اور حملے کی تیاری کرنا چاہیں گے اور پاکستانی حکومت کو یہ بھی خدشہ ہے کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن کا کہہ رہی ہے لیکن پاکستانی اس سے انکاری ہیں اب پاکستانی حکومت حقانی نیٹ ورک کو کرم ایجنسی منتقل کرنا چاہتی ہے۔ جس کے بعد پاکستانی حکومت شمالی وزیرستان میں دکھاوے کا آپریشن کرکے امریکہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے گی *** دوسری بات یہ ہے کہ پاکستانی متعصب گورنمنٹ امریکی ڈرون حملوں کا رخ بھی کرم ایجنسی کی طرف موڑنا چاہتی ہے۔جاوید حسین طوری
۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید حسین طوری کے تبصرے سے ایک جدیدترین واقعے کی کڑیاں ملائی جائیں تو ان کی بات کافی وزنی معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ حال ہی میں طالبان نے شلوزان کی پہاڑیوں سے حملہ کرکے شلوزان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی وہ شلوزان کے راستے کرم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر "پاراچنار" پر حملہ کرنا چاہتے تھے اور اس حوالے سے اہم ترین بات یہ تھی کہ اس حملے میں جلال الدین حقانی کے دوہزار دہشت گردوں نے شرکت کی تھی اور اس میں اس کے کافی آدمی کام بھی آئے اور جب انہیں شکست ہوئی تو حکومت کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے سول آبادی اور پانی کا بند تعمیر کرنے کے لئے جانے والے نوجوانوں اور بچوں تک کو نشانہ بنایا اور سرکار نے اپنے اور عوام کے درمیان جنگ کا دامن پھیلانے کی کوشش کی مگر عوام نے ان کی جارحیت کا جواب نہ دیا تو ملک و قوم کی حفاظت پر مأمور اور ملک و قوم کے خلاف جارحیت کرنے والی فوج اپنا سا منہ لے کر خاموش ہوگئی۔ لگتا ہے کہ اس وقت بھی حکومت نے حقانی گروپ کو پاراچنار یا پھر کم از کم شلوزان کی پہاڑیوں میں آباد کرنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی اور اب شیعہ عمائدین نے طالبان کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے کا اعلان کرکے اس سازش کے دوسرے مرحلے کو بھی ناکام بنایا ہے۔
یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ 4 سال قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے حکومت نے شیعہ قبائل کے عمائدین کو کئی بار علاقے کے سنی عمائدین کی بجائے طالبان سرغنوں کے ساتھ ایک میز پر بٹھایا اور کئی صلحنامے بھی منعقد کروائے جو سب ناکام ہوگئے اور اس بار شیعہ راہنماؤں کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو وہ شیعہ اور علاقے کے سنی راہنماؤں کے درمیان مذاکرات کروائے کیونکہ علاقی کے سنی راہنما بھی بے شک امن کے خواہاں ہیں لیکن طالبان کی موجودیت کا سہارا ہی جنگ اور خونریزی ہے چنانچہ ان پر اعتماد بھی نہیں کیا جاسکتا اور دوسری طرف سے علاقے کے سنی عوام بھی اس قسم کے مذاکرات سے خوش نہیں ہیں۔
کرمے وال
یا بھی پڑھ لینا:
- پاراچنار: سیکورٹی خدشات،پاک افغان سرحد سیل کر دی گئی / آپ بھی تبصرہ بھیجیں